مہاراشٹر

اکولہ ضلع کانگریس صدارت کے لیے راجیش کیشوراو گاؤنڈے کا نام سرفہرست؛ سماج کے افراد کی بھرپور تائید؛ تقرری ہونے پر پارٹی کو بڑا فائدہ ہونے کی امید

اکولہ: (بذریعہ ذاکر احمد شیخ) :اکولہ ضلع کانگریس میں اس وقت قیادت کی تبدیلی کو لے کر سیاسی حلقوں میں زور دار بحث جاری ہے۔ ضلع کانگریس صدر کے عہدے کے لیے پاتور تعلقہ کانگریس کے کامیاب صدراورنوجوان رہنما راجیش کیشوراو گاؤنڈے کا نام سب سے آگے بتایا جا رہا ہے۔ ضلع میں بڑی تعداد میں موجود کنبی سماج کے افراد بھی ان کی تقرری کے حق میں سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر کنبی سماج کو دوبارہ ضلع کانگریس کی قیادت دی گئی تو پارٹی کو اس کا بڑا فائدہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی دیکھنے کو ملا ہے۔
حال ہی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے دوران نانا بھاؤ پٹولے کی قیادت میں اکولہ ضلع میں سماج کے لوگوں نے ووٹنگ کے فیصد میں اضافہ کر کے اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دیا تھا۔ اسی پس منظر میں یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ اگر ضلع کانگریس کی باگ ڈور دوبارہ کنبی سماج کے ہاتھوں میں دی جائے تو سماج میں مثبت ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ راجیش گاؤنڈے کے پاتوراوربالاپور تعلقوں کے مسلم رہنماؤں کے ساتھ بھی خوشگوار اور دوستانہ تعلقات بتائے جاتے ہیں، جس کے سبب انہیں مسلم سماج کی تائید ملنے کی بھی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
پاتور تعلقہ کانگریس صدر کے طور پرخدمات انجام دیتے ہوئے راجیش کیشوراو گاؤنڈے نے جامع اورسب کو ساتھ لے کر چلنے والی قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ضلع اکولا کے تعلقہ پاتور کے بابھل گاؤں کے رہائشی گاؤنڈے ایک باصلاحیت اور متحرک نوجوان رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ پارٹی کے سینئر قائدین کے ساتھ بہتر تال میل قائم رکھتے ہوئے انہوں نے اس سے قبل کانگریس سیوا دل کے تعلقہ صدر کے طور پر بھی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ نچلی سطح کے کارکنان اور مختلف طبقات کے لوگوں کے ساتھ آسانی سے رابطہ قائم کرنا ان کی خاص پہچان مانی جاتی ہے۔ ان کا شائستہ مزاج اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا انداز انہیں کارکنان میں مقبول بناتا ہے۔
گیان دیوراو ٹھاکرے، سابق رکن اسمبلی، مورتجاپور نے اس سلسلے میں کہا کہ ماضی میں جب کانگریس پارٹی میں کنبی سماج کو نمائندگی حاصل تھی، تب پارٹی کے سنہرے دن تھے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران بھی نانا بھاؤ پٹولے کی قیادت میں اکولا ضلع کے سماج نے ووٹنگ کا فیصد بڑھا کر یہ بات ثابت کی۔ ان کے مطابق اگر آج بھی ضلع کانگریس کی قیادت کنبی سماج کو دی جاتی ہے تو سماج کو ایک مضبوط سیاسی متبادل مل سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر سیاسی جماعت میں مختلف سماجوں کو نمائندگی ملنی چاہیے۔ راجیش کیشوراو گاؤنڈے ایک باصلاحیت، متحرک اور شائستہ نوجوان رہنما ہیں جو سینئر قیادت کے ساتھ بہترین تال میل رکھتے ہیں اور ہر طبقے میں آسانی سے گھل مل جاتے ہیں۔ اگر ایسے شخص کو ضلع کانگریس کی قیادت دی جائے تو یقیناً ضلع کے عوام اور کارکنان میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔
اسی طرح سنت شیرو مانی توکارام مہاراج کنبی سماج منڈل، اکولا ضلع کے صدر سبھاش تو داتکر نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اگر ایسے ہمہ گیر شخصیت کے حامل رہنما کو ضلع کانگریس کی قیادت سونپی جاتی ہے تو سماج کے افراد میں اطمینان اور اعتماد کا ماحول پیدا ہوگا۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی سامنے آ رہا ہے کہ اگر راجیش کیشوراو گاؤنڈے کو ضلع کانگریس صدر کی ذمہ داری دی گئی تو اس سے پارٹی کو تنظیمی طور پر نئی توانائی مل سکتی ہے اور مختلف طبقات کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم ہو سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!