مہاراشٹر

اکولہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ؛ ہراسانی سے تنگ آ کر استاد نے اسکول میں پھانسی لگا لی؛ استاد کی خودکشی کے بعد تین افراد قانون کے شکنجے میں؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

اکولہ: (کاوش جمیل نیوز) :اکولہ کے کھدان تھانہ حدود میں واقع ایک اسکول میں ایک استاد کی جانب سے خودکشی کیے جانے کا انتہائی چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کھدان علاقے کی کرسچین کالونی میں واقع "سانیہ اردو پرائمری اسکول” میں خدمات انجام دینے والے ایک استاد نے اسکول کے احاطے میں ہی پھانسی لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس واقعے سے اکولہ کے پورے تعلیمی حلقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ اس معاملے میں کھدان پولیس نے تین افراد کے خلاف خودکشی پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس سے موصولہ معلومات کے مطابق، متوفی استاد کا نام عبدالضمیرعبدالبشیر (عمر 40 سال، ساکن مہان، تعلقہ بارسی ٹاکلی) تھا۔ وہ سانیہ اردو پرائمری اسکول میں بطوراستاد خدمات انجام دے رہے تھے۔ جمعرات، 25 جون کی صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان انہوں نے اسکول کے احاطے میں ہی پھانسی لگا کر خودکشی کر لی، جس سے اسکول میں سنسنی پھیل گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ اس معاملے میں متوفی استاد کے بھائی عبدالنذیرعبدالبشیر (عمر 45 سال، ساکن مہان) نے کھدان پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت کے مطابق، عبدالضمیر کو گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں اور اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، جس سے تنگ آ کر انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
متوفی کے بھائی کی شکایت کی بنیاد پر کھدان پولیس نے تین افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ملزمان کے نام درج ذیل ہیں:
جاوید احمد خان جبار خان (ساکن کھدان، اکولہ)
متین احمد خان (ساکن اسلام پورہ، مہان، تعلقہ بارسی ٹاکلی)
جاوید احمد ضمیر احمد (ساکن گنگا نگر، واشم بائی پاس، اکولہ)
شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان تینوں افراد نے باہمی ملی بھگت سے عبدالضمیر کو اس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت دی کہ وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو گئے اور بالآخر انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ کھدان پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!