مہاراشٹرمیں ٹی ای ٹی پیپر لیک کا بڑا انکشاف؛ ڈیڑھ کروڑ کی ڈیل سے قبل پولیس کا چھاپہ، ٹی ای ٹی پیپر لیک کا پردہ فاش؛ تین ملزمان حراست میں، بڑا ریکیٹ بے نقاب ہونے کا امکان

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹرریاستی امتحانی کونسل کی جانب سے 28 جون کو منعقد ہونے والے ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ (TET) 2026 کے پرچہ لیک ہونے کے شبہ کے باعث امتحان ملتوی کیے جانے کے بعد اس معاملے میں ایک بڑی معلومات سامنے آئی ہے۔ اضافی پولیس کمشنر اشوک دودھے نے بھیونڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ٹی ای ٹی امتحان کا پرچہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے میں فروخت کیا جانے والا تھا۔
اس معاملے میں تین ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جنہیں بھیونڈی کے کونگاؤں علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔
مہاراشٹر ریاستی امتحانی کونسل کی جانب سے جاری کردہ سرکاری پریس نوٹ کے مطابق، 28 جون کو ریاست بھر میں مجموعی طور پر 1,028 امتحانی مراکز پر ٹی ای ٹی امتحان منعقد کیا جانا تھا۔ ملک بھر میں حال ہی میں سامنے آنے والے نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے کے بعد کونسل نے امتحانی سکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم، امتحان سے چند گھنٹے قبل موصول ہونے والی خفیہ اطلاع کے باعث پوری انتظامیہ الرٹ ہوگئی۔
اس حوالے سے معلومات فراہم کرنے کے لیے بھیونڈی میں اضافی پولیس کمشنر اشوک دودھے نے پریس کانفرنس منعقد کی۔
اضافی پولیس کمشنر اشوک دودھے نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے تین ملزمان میں سے ایک ملزم ہریانہ کا رہائشی ہے جبکہ دو ملزمان بہار سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تینوں افراد دہلی سے مہاراشٹر آئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ افراد ٹی ای ٹی کا سوالیہ پرچہ فروخت کرنے کے ارادے سے لائے تھے اور اس کے بدلے ڈیڑھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
تاہم، یہ سودا مکمل ہونے سے پہلے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران مشتبہ افراد کے قبضے سے سوالیہ پرچے سے متعلق دستاویزات اور دیگر مواد بھی ضبط کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ سوالیہ پرچہ اصل میں کہاں سے حاصل کیا گیا، یہ کن افراد کے ذریعے ملزمان تک پہنچا اور اسے کس کو فروخت کیا جانا تھا، اس کی گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں۔
اس معاملے کی تحقیقات کے لیے 20 پولیس اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جبکہ مختلف ریاستوں میں بھی تفتیشی ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس پورے ریکیٹ کے مرکزی سرغنہ کی تلاش جاری ہے اور اس کی گرفتاری کے بعد پورے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہو سکے گا۔
اس کے علاوہ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ملزمان کا کسی کوچنگ کلاس، امتحانی ایجنٹ یا کسی اور منظم ریکیٹ سے تعلق ہے یا نہیں۔ مزید یہ بھی تحقیق کی جا رہی ہے کہ سوالیہ پرچہ کہیں اور بھی پہنچایا گیا تھا یا نہیں، کتنے امیدواروں تک یہ پرچہ پہنچا، اور اس سازش میں مزید کون کون شامل ہے۔
دریں اثنا، بھیونڈی پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مہاراشٹر ریاستی امتحانی کونسل نے ابتدائی جانچ میں یہ پایا کہ سوالیہ پرچے کے بعض سوالات ملزمان کے قبضے سے برآمد شدہ مواد سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد امتحان کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے 28 جون کو ہونے والا ٹی ای ٹی امتحان غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نیٹ پیپر لیک معاملے کے بعد پہلے ہی امتحانی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، اور اب ٹی ای ٹی پیپر لیک کے واقعے نے ایک بار پھر ریاست کے امتحانی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس نے اس پورے معاملے کے پس پردہ موجود ریکیٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ تیز کر دیا ہے، اور آئندہ چند دنوں میں مزید بڑے انکشافات سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




