مہاراشٹر

اکولہ،شہادتِ امام حسینؓ اور احیائے خلافت کے عنوان پر وحدتِ اسلامی کا موثر خطاب عام : خلافت کا قیام امت مسلمہ کا اولین فریضہ

اکولہ (پریس ریلیز): مقامی مومن پورہ مسجد میں دین کی سربلندی اور نظامِ خلافت کی بیداری کے لیے وحدتِ اسلامی اکولہ کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان خطاب عام کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان *”شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ اور احیائے خلافت”* تھا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض انجینئر سید راحیل نے انتہائی احسن انداز میں انجام پذیر ہوا ۔ تقریب میں مقتدر شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جن میں سید سہیل (ضلعی ناظم، وحدت اسلامی اکولہ)، شہزاد احمد خان(مقامی ناظم)، مولانا طفیل احمد ندوی (صدر، کل جماعتی تنظیم اکولہ)، مولانا مظفّر علی مظاہری (نائب صدر، کل جماعتی تنظیم اکولہ) شامل تھے ۔خطاب عام کا آغاز قاری افروز امانی کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔انجینئر اسرار احمد (ممبئی) نے اپنے خطاب سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی،انہوں نے معرکہِ کربلا اور نواسہِ رسولؐ کی عظیم قربانی کے تاریخی پس منظر کو جذباتی اور فکری انداز میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قربانی محض ایک جنگ نہیں بلکہ باطل کے خلاف حق کا اعلان تھی۔مقرر نے قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا کہ خلافت صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ دینِ اسلام کا وہ مروجہ ڈھانچہ ہے جس کے بغیر احکامِ الٰہی کا مکمل نفاذ ممکن نہیں۔ انجینئر اسرار احمد نے خلافتِ راشدہ کے سنہرے دور کا نقشہ کھینچا اور بتایا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد کا اصل مقصد ملوکیت (شاہی نظام) کا خاتمہ اور اسی "خلافت علیٰ منہاج النبوۃ” کا احیاء و تسلسل تھا، جس کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں مولانا مظفّر علی صاحب مظاہری نے دعائیہ کلمات پیش کیے۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، احیائے دین، اور ملوکیت کے خاتمے کی اجتماعی دعا پر اس پروقار "خلافت ڈے” کا کامیابی کے ساتھ اختتام عمل میں آیا۔ سامعین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!