مضامین

بلدیاتی الیکشن نہیں، سیاسی طاقت کا امتحان! اورنگ آباد میں ووٹ کی جنگ، اے آئی ایم آئی ایم نے بگاڑا بڑے کھلاڑیوں کا کھیل

اورنگ آباد: (کاوش جمیل کی اسپیشل رپورٹ) :مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر اورنگ آباد مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے آئندہ انتخابات نے شہر کے سیاسی ماحول کو پوری طرح گرما دیا ہے اور یہ مقابلہ اب صرف بلدیاتی ادارے پر قبضے تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے ریاستی سیاست کے آئندہ رخ کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ انتخابی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ ہی شہر بھر میں سیاسی جوڑ توڑ، بیانات اور حکمتِ عملیوں کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں تاحال امیدواروں کے انتخاب اور سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں الجھن کا شکار ہیں۔ کہیں اندرونی اختلافات ہیں تو کہیں قیادت کی سطح پر فیصلہ سازی میں غیر معمولی تاخیر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان حالات نے انتخابی میدان میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کا فائدہ وہ جماعتیں اٹھاتی نظر آ رہی ہیں جو پہلے ہی زمینی سطح پر سرگرم ہو چکی ہیں۔
اسی دوران آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے شہر کی سیاست میں جارحانہ انداز میں قدم رکھا ہے۔ ایم آئی ایم نے وارڈ سطح پر رابطہ مہم، ڈور ٹو ڈور کمپین اور مقامی مسائل کو بنیاد بنا کر عوام سے براہِ راست مکالمہ شروع کر دیا ہے۔ اس حکمتِ عملی نے نہ صرف پارٹی کارکنان میں جوش پیدا کیا ہے بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے تشویش بھی بڑھا دی ہے۔
اورنگ آباد کا ووٹر اس بار روایتی نعروں اور جذباتی اپیلوں سے متاثر ہونے کے موڈ میں نظر نہیں آ رہا۔ عوام صاف پانی، صفائی کے ناقص انتظامات، خستہ حال سڑکیں، ٹریفک کا مسئلہ، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں پر ٹھوس وعدے اور عملی منصوبہ بندی چاہتی ہے۔ شہریوں کے تاثرات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹ کا فیصلہ اب کارکردگی اور مقامی مسائل کی بنیاد پر ہوگا۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اقلیتی ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ نوجوان ووٹرز اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والے شہری اس الیکشن میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا، چھوٹے کارنر اجلاسوں اور براہِ راست عوامی رابطے پر زیادہ زور دے رہی ہیں۔ خاموش ووٹر جس نے ماضی میں خود کو سیاست سے الگ رکھا، اس بار نتائج بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اورنگ آباد میونسپل انتخابات دراصل مستقبل کی سیاست کا ٹریلر ہیں۔ یہاں سے ملنے والا پیغام نہ صرف دیگر بلدیاتی اداروں بلکہ آئندہ اسمبلی اور پارلیمانی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر بڑی جماعتیں اپنی اندرونی کمزوریوں پر قابو نہ پا سکیں تو منظم اور متحرک پارٹیاں سیاسی بساط پر بڑا کھیل کھیل سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر اورنگ آباد میں انتخابی مقابلہ سخت، سیاسی ماحول گرم اور ووٹر پہلے سے زیادہ باشعور دکھائی دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اتحادوں کی تشکیل و تحلیل، امیدواروں کے اعلان اور انتخابی بیانات سے سیاسی منظرنامہ مزید بدلنے کا امکان ہے، تاہم ایک بات طے ہے کہ یہ انتخابات خاموش نہیں ہوں گے بلکہ مہاراشٹر کی سیاست میں دور رس اثرات چھوڑ جائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!