ممبئی: "سوال پوچھو گے تو مار کھاؤ گے”….صحافیوں کو مبینہ دھمکی، ایم پی سنجے دینا پاٹل کی ویڈیو وائرل، ریاست بھرمیں شدید ردِعمل؛ صحافی حلقے میںشدید غصے کی لہر

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :گزشته چند روز قبل ہی شیوسینا (ٹھاکرے) پارٹی سے الگ ہوکر شندے کی شیوسینا میں شامل ہونے والے چھ ارکانِ پارلیمنٹ میں سے ایک، رکنِ پارلیمنٹ سنجے دینا پاٹل پرصحافیوں کو نازیبا زبان میں گالی گلوچ کرتے ہوئے دھمکی دینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ سنجے دینا پاٹل کے اس بیان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد ریاست بھر میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف حلقوں سے سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ سنجے دینا پاٹل کی جانب سے صحافیوں کو گالی گلوچ کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شیوسینا (ٹھاکرے) گروپ کے رہنماؤں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے سنجے دینا پاٹل پر سخت تنقید کی ہے۔ رکنِ اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے بھی اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح کانگریس کے رہنما نانا پٹولے نے بھی اسمبلی میں اس معاملے پر براہِ راست سوالات اٹھائے ہیں۔
"ریکارڈ کرو اور جا کر وہاں کمشنر سے شکایت کرو۔ ہم تمہاری عزت کر رہے ہیں، تمہیں برداشت کر رہے ہیں، بہت دنوں سے برداشت کیا۔ پھر آخر کیوں بار بار گھسے چلے آتے ہو؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ سب کچھ بتا دیا نا۔ وہ کچھ بھی بولے، تمہاری ایسی کی تیسی، اب میرے پاس مت آنا۔ اگر میرے پاس کچھ لینے آئے تو ماروں گا۔ ریکارڈ کرو اور جا کر بتاؤ۔ اب اگر تم مجھ سے سوال پوچھنے آئے تو مار کھاؤ گے۔”
اسی زبان میں رکنِ پارلیمنٹ سنجے دینا پاٹل پر صحافیوں کو گالیاں دینے اور دھمکیاں دینے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا: "وہ چھ ارکانِ پارلیمنٹ مِندھے کے ٹولے میں چلے گئے ہیں۔ اب میں نے سنا ہے کہ ایک بھگوڑا رکنِ پارلیمنٹ سب کو دھمکیاں دینا شروع کر چکا ہے۔ شاید اب وہ خواب میں بھی دھمکیاں دیتے ہوں گے۔ مجھے یہ بتائیے کہ اس رکنِ پارلیمنٹ نے دھمکی کب دی؟ صبح دی یا رات میں؟ یعنی شاید وہ کسی اور ہی کیفیت سے باہر نہ آئے ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما یہ سب دیکھ رہے ہیں یا نہیں؟ کیا وزیرِ اعظم یہ سب دیکھ رہے ہیں یا نہیں؟ اصل مسئلہ یہی ہے کہ جو لوگ بھاگ گئے ہیں، انہیں اب عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ انہیں کچھ اور نظر نہیں آتا، صرف اپنی دولت کیسے بڑھے، بس اسی کی فکر ہے۔”




