مہاراشٹر کے اساتذہ متحد، 9 جولائی کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ؛ ٹی ای ٹی قوانین میں نرمی اور بی ایل او ڈیوٹی سے نجات کا مطالبہ

امراوتی: (کاوش جمیل نیوز) :اساتذہ اہلیت امتحان (TET) کے باعث پیدا ہونے والی ملازمت سے متعلق غیر یقینی صورتحال، ترقی کے مواقع سے محرومی، اسٹاف منظوری (سنچ مانیتا) پالیسی، اور ’بی ایل او‘ کی تقرری کے معاملے میں ریاستی حکومت کی جانب سے نظراندازی کے خلاف ریاست بھر کے اساتذہ 9 جولائی کو اجتماعی رخصت پر رہیں گے اور ’اسکول بند‘ احتجاج کریں گے۔
مہاراشٹر ریاست پرائمری ٹیچرس مرکزی تنظیم، اساتذہ تنظیم رابطہ کمیٹی، مہاراشٹر ریاست پرائمری ٹیچرس کمیٹی، مہاراشٹر TET/CTET کامیاب اساتذہ ایکشن کمیٹی، مہاراشٹر ریاست پرائیویٹ اسکول ٹیچرس ایسوسی ایشن، تعلیمی پلیٹ فارم، ہیڈماسٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر ہم خیال اساتذہ تنظیموں کے مشترکہ اشتراک سے ریاست گیر احتجاج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مختلف اساتذہ تنظیموں کی جانب سے حکومت کو نوٹس بھی دے دیا گیا ہے۔
ریاست میں شروع کی گئی توسیعی افسر (تعلیم)، مرکز انچارج اور ہیڈماسٹرز کی ترقیوں کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔ خدماتی سینیارٹی رکھنے والے اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی قوانین میں تمل ناڈو، اتر پردیش اور تلنگانہ حکومتوں کی طرز پر نرمی کی جائے۔ سن 2010 سے قبل ملازمت میں شامل ہونے والے اور اس وقت خدمات انجام دے رہے اساتذہ کی عمر، ذہنی و جسمانی مسائل اور طویل خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی ای ٹی امتحان پاس کرنے کے اصولوں میں فوری تبدیلی کی جائے۔
خدماتی سینیار اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی کامیابی کی شرط کو 40 فیصد نمبروں تک نرم کیا جائے، یا پھر ان کے لیے وہ جس جماعت کو پڑھاتے ہیں، اس کے نصاب کی بنیاد پر ’ٹی ای ٹی مساوی اہلیتی امتحان‘ منعقد کیا جائے، یہ مطالبہ اساتذہ تنظیموں کی جانب سے کیا گیا ہے۔
15 مارچ 2024 کی اسٹاف منظوری پالیسی، سن 1980 کی اصل پالیسی اور حقِ تعلیم قانون کی دفعات سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ جہاں ثانوی اسکولوں میں مضمون کے گریجویٹ اساتذہ اور ہیڈماسٹر کے عہدوں کے لیے قواعد میں نرمی دی جا رہی ہے، وہیں پرائمری اسکولوں کے معاملے میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسکولوں میں مطلوبہ تعداد میں اساتذہ دستیاب نہیں رہیں گے۔ معیاری تعلیم کی فراہمی اور مقامی خود مختار اداروں کے اسکولوں کو بچانے کے لیے اس سخت اسٹاف منظوری پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔
فی الحال ’SIR‘ کا کام جاری ہونے کے باوجود، ’BLO‘ کے اضافی کام کے بوجھ کی وجہ سے اساتذہ ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کا براہ راست منفی اثر اسکول کے روزمرہ کام کاج اور طلبہ کے تعلیمی معیار پر پڑ رہا ہے۔ لہٰذا، پرائمری اساتذہ کو ان غیر تعلیمی کاموں سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے، یہ مطالبات کیے گئے ہیں۔ یہ معلومات پرائمری ٹیچرس کمیٹی کے شعبۂ تشہیر کے سربراہ راجیش ساورکر نے دی ہیں۔




